ممبئی، 15/نومبر (آئی این ایس انڈیا)شیوسینا نے بی جے پی کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ جس میں بی جے پی نے کہا کہ مہاراشٹرا میں مذہبی مقامات جب کھولے جائیں گے تو یہ ہندوتوا کی جیت ہوگی۔ شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ مندر بند کئے جانے کا فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی نے عوامی مفاد کے پیش نظر کیاتھا،اس کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
راوت نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ مندر اور دیگر مذہبی مقامات کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں بی جے پی کو ہندوتوا کی ’جیت‘ قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ راوت نے یہ جواب بی جے پی ایم ایل اے رام کدم کے بیان پر پوچھے گئے سوالات کے جواب میں دیا۔ رام کدم نے اے این آئی کو بتایا کہ مہاراشٹرا حکومت نے حزب اختلاف کے شدید دباؤ میں یہ فیصلہ کیا ہے۔
مہاراشٹرا حکومت میں کابینہ کے وزیر جینت پاٹل نے کہا ہے کہ مذہبی مقام کھولے جانے کا یہ صحیح وقت ہے۔تاہم ماسک، سینی ٹائزر کے استعمال کے ساتھ سماجی دوری کی ضرورت ہے۔ملک میں مذہبی مقامات کھولنے کا فیصلہ مرکزی حکومت نے یکم جون کو ان لاک:-1 کے تحت کیا تھا، تاہم ریاستی حکومتوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تھا کہ ریاستی حکومت اپنی صوابدید کے مطابق مذہبی مقامات کھولے جانے کی اجازت دے۔
خیال رہے کہ اس وقت مہاراشٹرا میں 90 ہزار کرونا کیسز کے رپورٹ ہوچکے ہیں، جو اب بڑھ کر 17 لاکھ سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ کرونا کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوتا جارہا ہے۔